حج گائیڈ · حاجیوں کے لیے
حج مرحلہ وار: ہر دن کیا ہوتا ہے
حج پانچ یا چھ دن میں، 8 سے 12 یا 13 ذوالحجہ تک ادا ہوتا ہے، اور مکہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے درمیان گزرتا ہے۔ یہاں ہر دن کی تفصیل ہے: آپ کہاں ہوں گے اور آپ کو کیا کرنا ہے۔
Labbyk ادارتی ٹیم 9 منٹ کا مطالعہ
اس صفحے پر
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، جو ہر اُس بالغ مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے جو جسمانی اور مالی طور پر استطاعت رکھتا ہو۔ عمرہ کے برعکس یہ صرف حج کے دنوں میں، اسلامی سال کے آخری مہینے ذوالحجہ کی 8 سے 12 یا 13 تاریخ تک ادا ہو سکتا ہے۔ چونکہ قمری سال شمسی سال سے چھوٹا ہے، اس لیے حج ہر سال تقریباً گیارہ دن پہلے آتا ہے۔
روانگی سے پہلے
- نیت تازہ کریں: حج صرف اللہ کے لیے ہے، لقب یا تصویروں کے لیے نہیں۔
- اپنے معاملات درست کر لیں: قرض ادا کریں، جن عزیزوں اور دوستوں کا دل دکھایا ہو ان سے معافی مانگیں، اور وصیت لکھ لیں۔
- پاسپورٹ اور ویزا کی کاپیاں: ایک کاپی گھر پر چھوڑیں، ایک کسی بھروسے کے شخص کو دیں، اور فون میں تصویریں رکھیں۔
- مناسک ابھی سے سیکھ لیں، گروپ کی تربیتی نشستوں اور اس رہنمائی سے، تاکہ وہ پانچ دن عبادت میں گزریں، یہ سوچنے میں نہیں کہ آگے کیا ہے۔
اصطلاحات جو آپ سنیں گے
| اصطلاح | مطلب |
|---|---|
| رکن | لازمی عمل۔ چھوٹ جائے تو حج درست نہیں۔ |
| واجب | ضروری عمل۔ چھوٹ جائے تو حج درست رہتا ہے، مگر قربانی (دم) دینی ہوتی ہے۔ |
| سنت | مستحب۔ کرنے پر اجر، نہ کرنے پر کچھ لازم نہیں۔ |
| دم | کسی واجب کے چھوٹنے کی تلافی کے لیے حرم میں ذبح کیا جانے والا جانور۔ |
| فدیہ | احرام کی کوئی پابندی توڑنے کا کفارہ: ایک قربانی، یا تین روزے، یا چھ مسکینوں کو کھانا (البقرہ: 196)۔ |
| ہدی | تمتع یا قران کرنے والوں پر واجب قربانی، جو 10 تاریخ سے دی جاتی ہے۔ |
| مناسک | حج کے اعمال۔ |
حج کی تین قسمیں
سفر سے پہلے طے کر لیں کہ آپ کون سا حج کر رہے ہیں، کیونکہ اسی سے طے ہوتا ہے کہ احرام کب باندھنا ہے اور قربانی لازم ہے یا نہیں۔ ہندوستان سے زیادہ تر حاجی تمتع کرتے ہیں۔
| قسم | کیا کرتے ہیں | قربانی |
|---|---|---|
| تمتع | پہلے عمرہ، پھر احرام کھول کر مکہ میں عام زندگی۔ 8 ذوالحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام۔ | لازم |
| قران | عمرہ اور حج ایک ہی احرام میں، جو آمد سے 10 تاریخ تک رہتا ہے۔ | لازم |
| اِفراد | صرف حج، میقات سے 10 تاریخ تک احرام میں۔ ساتھ عمرہ نہیں۔ | لازم نہیں |
راستہ: مکہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ
حج کے مناسک مکہ کے مشرق میں چار جگہوں کے درمیان ادا ہوتے ہیں۔ خیموں کا شہر منیٰ مسجدِ حرام سے چند کلومیٹر دور ہے؛ عرفات مکہ سے تقریباً 20 کلومیٹر ہے، اور مزدلفہ ان دونوں کے درمیان۔ گروپ بس، مشاعر ٹرین یا پیدل ان کے درمیان آتے جاتے ہیں۔
- مکہمسجدِ حرام
- منیٰخیموں کا شہر اور جمرات
- عرفات9 تاریخ کا وقوف
- مزدلفہکھلے آسمان تلے رات
- 8 ذوالحجہمکہتکمنیٰاحرام؛ دن اور رات منیٰ میں
- 9 ذوالحجہ، طلوعِ آفتاب کے بعدمنیٰتکعرفاتغروب تک وقوف اور دعا
- 9 ذوالحجہ، غروب کے بعدعرفاتتکمزدلفہمغرب اور عشاء ایک ساتھ؛ کھلے آسمان تلے رات
- 10 ذوالحجہ، طلوع سے پہلےمزدلفہتکمنیٰجمرۂ عقبہ کی رمی، قربانی، بال
- 10 ذوالحجہ یا بعد میںمنیٰتکمکہتکمنیٰطوافِ زیارت اور سعی
- 11 – 13 ذوالحجہمنیٰروزانہ تینوں جمرات کی رمی
- آخری دنمکہطوافِ وداع، پھر واپسی
8 ذوالحجہ — منیٰ کی طرف (یوم الترویہ)
تمتع کرنے والے مکہ میں اپنی رہائش ہی سے دوبارہ احرام باندھتے ہیں: غسل کریں، احرام پہنیں، حج کی نیت کریں اور «لبیک اللّٰہم حجاً» کہیں، پھر تلبیہ شروع کریں۔ قران اور افراد والے پہلے سے احرام میں ہوتے ہیں۔
منیٰ جائیں اور دن اور رات اپنے گروپ کے خیمے میں گزاریں۔ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلی صبح کی فجر وہیں، ہر نماز اپنے وقت پر پڑھیں، چار رکعت والی نمازیں دو رکعت قصر کے ساتھ۔ آرام کریں — اگلا دن حج کا سب سے اہم دن ہے۔
حج کی نیت
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ حَجًّا
9 ذوالحجہ — یومِ عرفہ
طلوعِ آفتاب کے بعد عرفات جائیں۔ عرفات میں ٹھہرنا (وقوف) حج کی جان ہے — نبی ﷺ نے فرمایا: «حج عرفہ ہے»۔ یہ چھوٹ جائے تو حج چھوٹ جاتا ہے، اس لیے یقین کر لیں کہ آپ کے گروپ کا کیمپ عرفات کی حد کے اندر ہے، جس پر نشانات لگے ہیں۔
- مسجدِ نمرہ سے دیا جانے والا خطبہ سنیں جو کیمپوں میں نشر ہوتا ہے۔
- ظہر اور عصر ظہر کے وقت میں ایک ساتھ پڑھیں، دونوں دو دو رکعت قصر۔
- دوپہر سے غروب تک قبلہ رخ ہو کر دعا، ذکر، تلاوت اور توبہ میں گزاریں۔ جبلِ رحمت پر چڑھنا بلکہ اسے دیکھنا بھی ضروری نہیں؛ عرفات میں کہیں بھی ٹھہرنا کافی ہے۔ کسی «خاص» جگہ کی تلاش میں بھٹکنے کے بجائے اپنے گروپ کے ساتھ رہیں — حاجی اسی طرح گم ہوتے ہیں۔
- ہر منٹ قیمتی بنائیں۔ نیند اور باتیں بعد کے لیے رکھیں؛ یہ دوپہر پورے سفر کی جان ہے۔
- سورج غروب ہونے تک رہیں۔ غروب سے پہلے عرفات نہ چھوڑیں۔
یومِ عرفہ کی بہترین دعا
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
مزدلفہ کی رات
غروب کے بعد عرفات میں مغرب پڑھے بغیر مزدلفہ روانہ ہوں۔ وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں، عشاء قصر کے ساتھ۔ رات کھلے آسمان تلے گزاریں، پھر فجر اول وقت پڑھیں اور روشنی ہونے تک ذکر اور دعا میں رہیں، اور طلوعِ آفتاب سے پہلے روانہ ہوں۔
رمی کے لیے چنے کے دانے برابر چھوٹی کنکریاں چن لیں: 12 تاریخ کو منیٰ چھوڑنا ہو تو 49، اور 13 تک رکنا ہو تو 70۔ بہت سے لوگ چند زیادہ رکھ لیتے ہیں۔ کنکریاں منیٰ میں بھی چنی جا سکتی ہیں۔ زیادہ تر حاجی کھلی زمین پر سوتے ہیں — یہیں آپ کی سامان والی پتلی چٹائی کام آتی ہے۔ بزرگ، کمزور، خواتین اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے نکل سکتے ہیں — اپنے گروپ لیڈر کی ہدایت پر چلیں۔
10 ذوالحجہ — عید کا دن
10 تاریخ حج کا سب سے مصروف دن ہے۔ چار اعمال ہیں، اور انہیں اسی ترتیب سے ادا کرنا سنت ہے (اور حنفی مسلک میں بعض حاجیوں پر واجب):
پہلا عمل
جمرۂ عقبہ کی رمی
منیٰ واپس آ کر صرف بڑے جمرے کو سات کنکریاں ایک ایک کر کے ماریں، ہر کنکری کے ساتھ «اللہ اکبر» کہیں۔ پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ بند کر دیں۔
دوسرا عمل
قربانی
تمتع اور قران والوں پر لازم۔ آج تقریباً ہر حاجی سرکاری سعودی قربانی (اضاحی) کوپن کے ذریعے ادا کرتا ہے، جو عموماً ایجنسی بنواتی ہے — اپنی ایجنسی سے تصدیق ضرور لیں۔
تیسرا عمل
سر منڈوانا یا بال کٹوانا
مرد منڈوائیں (افضل) یا برابر چھوٹے کروائیں؛ خواتین ایک پور کے برابر کاٹیں۔ اب میاں بیوی کے تعلق کے سوا احرام کی ساری پابندیاں ختم۔
چوتھا عمل
طوافِ زیارت اور سعی
حج کے رکن طوافِ زیارت (افاضہ) کے لیے مکہ جائیں، اور تمتع والے اس کے بعد سعی کریں۔ یہ 10 تاریخ کو یا ایامِ تشریق میں بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد احرام پوری طرح ختم۔
اگر ترتیب بدل جائے تو گھبرائیں نہیں: اس دن جب صحابہؓ نے نبی ﷺ سے ایک عمل دوسرے سے پہلے کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «کر لو، کوئی حرج نہیں» (بخاری)۔ حنفی مسلک پھر بھی بعض حاجیوں سے ترتیب کی پابندی چاہتا ہے، اس لیے اپنے عالم سے پوچھ لیں۔ طوافِ زیارت کا 10 تاریخ ہی کو ہونا ضروری نہیں؛ بہت سے گروپ 11 کی رات جاتے ہیں جب حرم میں سکون ہوتا ہے۔
11 تا 13 ذوالحجہ — منیٰ میں ایامِ تشریق
11 اور 12 کی راتیں منیٰ میں گزاریں۔ ان دنوں میں ہر روز زوال کے بعد تینوں جمرات کو ترتیب سے رمی کریں — چھوٹا (جمرۂ اولیٰ)، درمیانہ (وسطیٰ) اور بڑا (عقبہ) — ہر ایک کو سات کنکریاں، ہر کنکری پر «اللہ اکبر»۔ پہلے اور دوسرے کے بعد ایک طرف ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر لمبی دعا کریں؛ بڑے جمرے کے بعد رکے بغیر آگے بڑھ جائیں۔
ہر رات کا زیادہ حصہ اپنے منیٰ کیمپ میں گزاریں، اور دن مکہ کے چکروں کے بجائے ذکر اور آرام میں۔ 12 تاریخ کو منیٰ چھوڑ سکتے ہیں، بشرطیکہ غروب سے پہلے نکل جائیں۔ اگر غروب کے وقت منیٰ ہی میں ہوں تو رات رکیں اور 13 کو پھر تینوں جمرات کی رمی کریں۔ جو خود رمی نہ کر سکیں — بیمار، بزرگ، حاملہ خواتین — وہ کسی ایسے شخص کو نائب بنا سکتے ہیں جو اپنی رمی کر چکا ہو۔
طوافِ وداع — رخصت کا طواف
مکہ میں آخری کام، گھر یا مدینہ روانگی سے بالکل پہلے، طوافِ وداع ہے: سات چکر، بغیر سعی اور بغیر احرام کے۔ خریداری اس سے پہلے کر لیں، بعد میں نہیں۔ ماہواری والی خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر آپ طوافِ زیارت مکہ سے روانگی تک مؤخر کریں تو بعض علماء کے نزدیک وہی طوافِ وداع کے لیے بھی کافی ہے — اپنے عالم سے پوچھ لیں۔ پھر آپ کا حج مکمل ہے۔ اللہ قبول فرمائے۔
مدینہ
ہندوستان کے زیادہ تر گروپ حج سے پہلے یا بعد ایک ہفتہ مدینہ میں گزارتے ہیں۔ یہ حج کا حصہ نہیں، مگر اپنی جگہ ایک سفر ہے: نبی ﷺ کی مسجد میں نماز، ریاض الجنہ کی حاضری، روضۂ مبارک پر سلام، اور مسجدِ قبا میں نماز۔ ہماری عمرہ رہنمائی میں ہر زیارت کی تفصیل ہے۔
ہندوستان سے حج
ہندوستان سے حاجی یا تو حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعے جاتے ہیں یا کسی نجی حج گروپ آرگنائزر (HGO) کے ساتھ — یعنی وزارتِ اقلیتی امور میں رجسٹرڈ ٹریول ایجنسی۔ حج پالیسی 2026 کے تحت ہندوستان کی 70% نشستیں حج کمیٹی کو اور 30% HGOs کو ملیں۔ درخواستیں مہینوں پہلے کھلتی ہیں، اس لیے hajcommittee.gov.in پر اعلان دیکھتے رہیں اور ادائیگی سے پہلے یقین کر لیں کہ نجی ایجنسی وزارت کی رجسٹرڈ HGO فہرست میں شامل ہے۔
